گھروں میں لباس کی ایسی آزادی ہوگی تو لوگ تو خفیہ ویڈیو بنیں گے ہی

اگر آپ اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانا چاہتے ہیں تو شریک حیات کیلئے آسمان سے تارے توڑ کر لانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ روز مرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے اپنی محبت کا عملی اظہار کیجئے، کہ یہ محبت کے بڑے بڑے دعوؤں سے کہیں زیادہ کارگر ہے۔

میل آن لائن کے مطابق ماہرین نفسیات کی ایک حالیہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ جو افراد شریک حیات کا خیال رکھتے ہیں، اس کی معمولی ضروریات کو فوری پورا کرنے پر توجہ دیتے ہیں، اس کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں، اور سب سے اہم یہ کہ مسکراہٹ اور جسمانی لمس سے اپنی محبت اظہار کرتے ہیں، ان کی ازدواجی زندگی بے حد خوشگوار رہتی ہے۔

پین سٹیٹ کالج آف ہیلتھ اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ محبت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے جب عملی زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنے عمل سے محبت کا اظہار نہیں کرپاتے تو ان کے دعوؤں کا الٹا اثر ہوتا ہے۔

ایسے لوگ شریک حیات کو مایوس اور بیزار کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ شریک حیات سے پیار کے اظہار کے لئے جن طریقوں کو بہترین قرار دیا گیا ہے ان میں مشکل کے وقت شریک حیات کا ساتھ دینا، پیار سے چھونا اور رومانوی باتیں کرنا شامل ہیں۔

اسی طرح رحمدلی، شفقت کا اظہار کرنا اور بچوں سے پیار کرنا انتہائی شفیق شخصیت کی آئینہ دار خوبیاں ہیں اور ازدواجی زندگی کو خوشگوار بناتی ہیں ۔

زندہ قومیں اپنے ماضی، حال اور مستقبل سے غافل نہیں ہوتیں۔ قوموں کی تباہی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے تابناک ماضی کو بھلا دیتی ہیں۔ جو لوگ تاریخ کو بھول جاتے ہیں تاریخ بھی انہیں بھول جاتی ہے اور پھر نہ تو ان کا ماضی ہوتا ہے اور نہ ہی حال یا مستقبل۔ یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے۔

ہم نے اپنے ماضی کو فراموش کرتے ہوئے انگریزوں کو سب سے مہذب، سب سے ترقی یافتہ قوموں میں شمار کرنا شروع کردیا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم انگریزوں سے زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب قوم ہیں جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ جس وقت انگریز لباس اور کھانے کے طور پر پتوں اور گھاس پھوس کا استعمال کرتے تھے، رہائش کےلیے غار اور آگ جلانے کےلیے پتھر کو آپس میں ٹکرا کر آگ جلاتے تھے۔

5 ہزار سال قدیم موئن جو دڑو ایک تہذیب یافتہ شہر تھا جسے دریافت بھی ایک انگریز ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل نے کیا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ خطہ ایک مہذب اور شائستہ قوم کی قدریں رکھتا ہے۔ 5 ہزار سال بعد دریا فت کئے جا نے والے اس شہر میں نہ صرف رہنے کےلیے مکانات، عبادت کےلیے عبادت گاہیں، بازار، فراہمی و نکاسی آب کے مؤثر انتظامات تھے بلکہ وہاں علمی درس گاہوں کی بھی نشانیاں دریافت ہوئی ہیں جن میں سے ایک عمارت کو باقاعدہ طور پر ’’موئن جو دڑو‘‘ کالج کا نام دیا گیا ہے۔

اس تہذیب و تمدن والے شہر کو، جو ہمارا ورثہ ہے، عالمی سطح پر یونیسکو نے بھی عالمی ورثے میں شامل کر رکھا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بابل، عراق اور ایران میں بھی قدیم تعلیمی اداروں کی واضح نشانیاں ملی ہیں۔ ان کے علاوہ ٹیکسلا سے بھی ایک قدیم یونیورسٹی کے آثار ملے ہیں جو وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تھی جہاں 300 سے زائد لیکچر ہالز و دیگر سہولیات موجود تھیں۔ اسے دنیا کی پہلی یونیورسٹی بھی قرار دیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں