کھڑے ہو کر جماع کرنا کیسا ہے؟

کافی مردوں کو کھڑے ہو کر جماع کرنے کا لطف زیادہ آتا ہے مگر کھڑے ہو کر جماع کرنا کیسا ہے؟کھڑے ہو کر جماع کرنا جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ لیٹ کر کرے۔ طب میں لکھا ہے کہ کھڑے ہو کر صحبت کرنا جسم کو کمزور کرتا ہے اور پیٹ بھر کر جماع نہیں کرنا چاہیئے۔

اسلیئے کہ اس سے اولاد سست پیدا ہوگی اور کسی کام کا نہیں رہے گا۔ اس سے زہین بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ یونانی کتابوں میں لکھا ہے کہ کھڑے ہو کر جماع کرنا جسم کے لرزش کا باعث بنتا ہے۔ یہ بعض لوگ جو جسم کی لرزش میں مبتلا ہے انھوں نے کھڑے ہو کر جماع کیا ہوتا ہے۔ اُمید ہے کہ جماع کے دوران بہت احتیاط سے کام لینگے۔

لاہور (ویب ڈیسک( شادی شدہ جوڑوں میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔لوف برگ یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تنہا افراد کے مقابلے میں شادی شدہ جوڑوں میں درمیانی عمر یا بڑھاپے میں اس خطرناک مرض کا خطرہ 60 فیصد تک کم ہوتا ہے

اور ان کا ذہن زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔اس سے قبل یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ غیر شادی شدہ یا مطلقہ افراد میں امراض قلب اور ڈپریشن کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے جو کہ ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والے اہم عناصر بھی سمجھے جاتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ شادی شدہ افراد کا طرز زندگی زیادہ صحت مند، بہتر خوراک، تمباکو نوشی میں کمی اور طبی ماہرین سے جلد رجوع کرنا اس خطرے میں کمی لاتا ہے۔

محققین کے بقول میاں ہو یا بیوی وہ کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے پہلے بھی ڈیمینشیا کی علامات پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ چھسال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ شادی شدہ جوڑوں میں ڈپریشن اور امراض قلب کا امکان تنہا افراد کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہےور اس وجہ سے انہیں ڈیمینشیا سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

محققین کے مطابق انسانوں کو سماجی میل جول کیا ضرورت ہوتی ہے اور میاں بیوی کا رشتہ اس حوالے سے ہماری توقعات سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔دنیا بھر میں کروڑوں افراد ڈیمینشیا کا شکار ہوچکے ہیں اور الزائمر اس کی سب سے عام قسم ہے جس کا ابھی تک کوئی علاج سامنے نہیں آسکا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف گیرونٹولوجی میں شائع ہوئے

اپنا تبصرہ بھیجیں