زنا کے سدباب کے قرآنی طریقے

کئی بار ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں صرف زنا کی سزا ہی اتنی سخت کیوں رکھی گئی. یہاں جب قرآن کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ جہاں صرف اللہ کے حق کا معاملہ ہوتا ہے تو اللہ نرمی کا رویہ اپناتے ہیں اور جہاں بندے کا حق اللہ کے حق سے مل جائے تو اللہ پاک سختی اختیار کرتے ہیں. دو افراد کے زنا کے متاثرین دو فرد، دو خاندان، دو قومیں، دو گروہ یا دو قبیلے نہیں بلکہ پوری امت ہے. قتل کے گناہ کی سزا بھی قتل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں

مجید میں ارشاد ہے “جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اسے نے پوری انسانیت کو قتل کیا” مگر یہاں آپس میں صلح صفائی کی بنیاد پر دیت کی رعایت بھی دے دی. چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، ڈاکے کی سزا قتل کی سزا قتل ہے مگر زنا کی سزا یوں بھی اپنی شدت میں بڑھ کر ہے کہ یہ چھپ کر نہیں بلکہ سرِعام مجمع میں دینی ہے.

اور ہر پتھر جسم پر ایک زخم بنائے گا جب تک جان نہ نکل جائے اس میں حکمت یہ ہے کہ جیسے اس گناہ کے عمل میں اس کے جسم کے ہر ٹشو tissue نے لطف اٹھایا تو اب موت بھی لمحہ لمحہ اور پل پل کی اذیت کے بعد آئے گی. یعنی زانی جب تک اپنے خون میں غسل نہ کرے، اس کی توبہ قبول نہ ہوگی مگر کیا اللہ پاک اتنے بے انصاف ہیں کہ ایک گناہ کی اتنی بڑی سزا رکھ دی مگر اس سے بچنے کی کوئی ترکیب یا طریقہ نہ سکھایا؟

ایسا نہیں ہے. اللہ تعالٰی نے اس امت کو اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطے سے قرآن و حدیث کے ذریعے اس گناہ سے بچنے کے لیے پورا پلان پیش کیا ہے. احکامات کی پوری لسٹ ہے. Do’s اور Dont’s کی مکمل فہرست ہے. آئیں ان سب کا جائزہ لیں

پہلا حکم: استیذان یعنی اجازت طلب کرنا

کسی کے گھر یا کمرے میں بلا اجازت مت جاؤ. بھائی بہن کے، باپ بیٹی کے، ماں بیٹے کے کمرے میں جانے سے پہلے اجازت طلب کریں. شریعت اس طرح ہمیں مزاج سکھا رہی ہے. اور آج اس حکم پر عمل نہ کرنے سے محرم رشتوں میں بھی خرابی آ رہی ہے گھر میں دو حصے رکھیں پرائیویٹ رومز یعنی ذاتی کامن رومز یعنی عام پرائیویٹ کمروں میں محرم اجازت سے اور اجنبی بالکل مت جائیں. تاکہ ایک دوسرے کو نامناسب حالت میں نہ دیکھ لیں. Segregated rooms یعنی ڈرائنگ روم وغیرہ میں مرد ہی مردوں کو attend کریں. عورتیں بالکل مت کریں چاہے کزنز ہوں یا سسرالی رشتہ دار. مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کزنز کھلم کھلا فیمیل کزنز کے کمروں میں جاتے ہیں، چھیڑ خانی ہو رہی ہوتی ہے، ہنسی مذاق اور آؤٹنگ چل رہی ہوتی ہے اور اسی دوران شیطان اپنا وار کر دیتا ہے. عورتیں یاد رکھیں مرد زبردست اور عورت زیردست ہوتی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت پاک رہنا چاہے مگر مرد اس کو پاک نہ رہنے دے؟

دوسرا حکم نظر کی حفاظت نظروں کو نیچا رکھیں اور اپنی حیا کی حفاظت کریں. یہ حکم مرد عورت دونوں کے لئے ہے. عورتوں کی شادی بیاہ اور مردوں کی بازاروں میں اکثر نظر بہکتی ہے. کوئی مہمان آئے تو عورتیں جھانکتی تاکتی ہیں. باپ، بھائیوں کے دوستوں سے ہنس ہنس کر ملنا اور serving ہو رہی ہوتی ہے. جبکہ شریعت تو دیکھنے سے بھی منع کر رہی ہے. مردوں، عورتوں کی یہ عادت شادی بیاہ میں کھل کر سامنے آتی ہے جب بے حیائی اپنے عروج پر ہوتی ہے. دو اندھے اگر آمنے سامنے بیٹھے ہیں تو انکو نہیں معلوم کہ سامنے والا کیسا، کتنی عمر کا ہے.

مگر شریعت ایک بینا اور اندھے کو بھی آمنے سامنے بیٹھنےسے منع کرتی ہے جیسا کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ والی حدیث سے ثابت ہے. عورتوں اور مردوں کو کئی بار مجبوری میں بات بھی کرنی پڑتی ہے جیسے بازار وغیرہ. تب شریعت چہرے پر نظر ڈالنے سے منع کرتی ہے. صرف پردہ کرنا مسلے کا حل نہیں بلکہ نظر بھی جھکانی ہے. امام غزالی فرماتے ہیں، “نظر سوچ کے اندر تصویر لے جاتی ہے، یہ تصویر خواہش میں بدل جاتی ہے اور پھر یہی خواہش بے حیائی کا راستہ دکھاتی ہے. ”

اپنا تبصرہ بھیجیں